مدھیہ پردیش سیاسی بحران: کانگریس سے سندھیا مستعفی

مدھیہ پردیش میں تیزی سے بدل رہی سیاست کے درمیان آج کا دن صوبے کی سیاست میں بڑا اہم مانا جارہا ہے۔ بی جے پی اور کانگریس دونوں ہی پارٹیو ں نے ارکان اسمبلی کی میٹنگ بلائی ہے۔ سندھیا کے استعفی کے بعد کانگریس کی مشکلیں بڑھ گئی ہیں۔




مدھیہ پردیش میں سیاسی گہما گہمی عروج پر ہے۔ اسی دوران کانگریس کے سینئر رہنما اور سابق رکن پارلیمان جیوتی رادتیہ سندھیا وزیر داخلہ امت شاہ کے ساتھ ایک ہی گاڑی میں وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کرنے پہنچے ۔


قیاس کیا جارہا ہے کہ جیودتی رادتیہ سندھیا بی جے پی میں شامل ہوسکتے ہیں۔


امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ سندھیا کو بی جے پی مرکزی کابینہ میں شامل کرسکتی ہے۔


یہ بھی قیاس کیا جارہا ہے کہ جیوتی رادتیہ سندھیا کے حامی ارکان اسمبلی جلد ہی مدھیہ پردیش حکومت سے استعفیٰ دے سکتے ہیں۔


مدھیہ پردیش میں تیزی سے بدل رہی سیاست کے درمیان آج کا دن صوبے کی سیاست میں بڑا اہم مانا جارہا ہے۔ بی جے پی اور کانگریس دونوں ہی پارٹیو ں نے ارکان اسمبلی کی میٹنگ بلائی ہے۔ جس میں بڑے فیصلے لیے جاسکتے ہیں۔ بھوپال میں شام پانچ بجے سے ہونے والی اس میٹنگ میں بی جے پی موجودہ سیاسی حالات پر بحث کرنے کے ساتھ کمل ناتھ حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانے کے لائحہ عمل تیار کرسکتی ہے۔


تقریباً ایک ہفتہ سے ریاست سے دور رہے مدھیہ پردیش کے سابق سی ایم شیو راج سنگھ چوہان د ہلی سے بھوپال پہنچے ۔ شیوراج سنگھ چوہان نے کہا کہ کانگریس اپنے اندورونی خلفشار میں مبتلا ہے۔ ہم کچھ نہیں کررہے ہیں۔ کانگریس اپنی پریشانیوں سے خود مصیبت میں ہے۔


ریاست میں پل پل بدلتے سیاسی ہلچل کے درمیان گورنر لال جی ٹنڈن بھی اپنی چھٹیاں رد کرکے بھوپال پہنچ گئے ہیں تو اپوزیشن رہنما گوپال بھارگو نے بی جے پی ارکان اسمبلی کی میٹنگ میں ریاست کے سبھی ارکان کو ضروری طور سے موجود رہنے کا حکم دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس مینگ میں شیوراج سنگھ چوہان کو بی جے پی ارکان اسمبلی کا رہنما منتخب کیا جاسکتا ہے۔


سی ایم ہاؤس پر دیر رات کمل ناتھ کابینہ کے 20 وزرا نے استعفیٰ دے دیا۔ وزرا کے استعفی کے بعد کانگریس نے صبح 11 بجے ارکان اسمبلی کی میٹنگ بلائی۔ بتایا جارہا ہے کہ کمل ناتھ اپنے کابینہ کی تشکیل کرسکتے ہیں۔ اس درمیان کانگریس کے 19 ارکان اسمبلی لاپتہ آج بنگلورو سے کوئی بڑا فیصلہ لے سکتے ہیں۔ سابق سی ایم دگ وجے سنگھ بھی اس میٹنگ میں شامل ہوسکتے ہیں۔


وہیں ریاست کے بڑے رہنما جیوتی رادتیہ سندھیا بھی آج کوئی بڑا اعلان کرسکتے ہیں۔ وہ اپنے والد مادھو راؤ سندھیا کی جینتی پر گوالیار پہنچ کر کوئی بڑا اعلان کرسکتے ہیں